Press Release

February 2026

کراچی 17 فروری2026

سیلانی ویلفیئر کی جانب سے سال 2025 میں 16 ارب 20 کروڑ روپے کی خیراتی کام کیے گئے،بچوں کے لیے چلڈرن اسپتال 4 سال میں تعمیر کیا جائے گا،تعلیم،روزگار،علاج سیلانی کے اہداف ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سیلانی ویلفیئر کے بانی چیئرمین مولانا بشیر فاروقی نے آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرمین آباد محمد حسن بخشی،وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن احمد اویس تھانوی اور آباد ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مولانا بشیر فاروقی نے مزید کہا کہ پاکستان کے بگڑتے حالات سب کے سامنے ہیں، خوشی کی خبریں آٹے میں نمک کے برابر جبکہ منفی خبروں کی بھرمار ہے۔ ایسے میں ہر فرد پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ انھوں نے بتایا کہ سیلانی پاکستان کے علاوہ برطانیہ، امریکا، شام اور غزہ سمیت7 ممالک میں فلاحی خدمات انجام دے رہا ہے۔ مولانا بشیر فاروقی کا کہنا تھا کہ سیلانی کا پہلا ہدف یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بچہ بے تعلیم نہ رہے، دوسرا ہدف بے روزگاری کا خاتمہ اور تیسرا ہدف یہ ہے کہ کوئی شہری علاج سے محروم نہ ہو۔انھوں نے بتایا کہ آئی ٹی کی 4 ارب ڈالر سالانہ برآمدات میں سے ایک ارب ڈالر یعنی 280 ارب روپے سیلانی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے روزگاری امن و امان کی خرابی کا باعث بنتی ہے، اس لیے نوجوانوں کو نوکری کے بجائے اپنا کاروبار شروع کرنے کی طرف آنا ہوگا۔ سیلانی کی آئی ٹی تربیت کے باعث کئی نوجوان ماہانہ ڈیڑھ سے2 لاکھ روپے کما رہے ہیں۔مولانا بشیر فاروقی نے کہا کہ پاکستان میں طب کے شعبے کی صورتحال تشویشناک ہے اور شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح زیادہ ہے۔ انھوں نے کراچی میں جدید ترین 12 منزلہ چائلڈ اسپتال کی تعمیر کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپتال4 سال میں مکمل ہوگا اور ایک منزل کی تعمیر پر 30 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ انھوں نے آباد سے اپیل کی کہ اس عظیم فلاحی منصوبے میں بھرپور تعاون کیا جائے۔ اس موقع پر چیئرمین آباد کے چیئرمیں محمد حسن بخشی نے کہا کہ رمضان المبارک سے قبل ہر صاحبِ حیثیت فرد کو فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے کیونکہ کراچی اور ملک کے معاشی حالات سب کے سامنے ہیں۔انھوں نے ایف سی ایریا میں 236 ایکڑ زمین کچی آبادی کی نذر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجویز دی کہ سیلانی، آباد اور پاکستان سافٹ ویئر ایسوسی ایشن مشترکہ کاوشوں سے اس زمین پر آئی ٹی پارک قائم کریں تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں۔ حسن بخشی نے کہا کہ بھارت میں بین الاقوامی کمپنیاں 17،17 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں، پاکستان میں بھی سرمایہ کاری کے لیے مؤثر پالیسیاں مرتب کرنی ہوں گی۔ ان کے مطابق درست حکمت عملی سے پاکستان کا 135 ارب ڈالر کا قرض بھی اتارا جا سکتا ہے۔

Karachi, February 14, 2026:

Director General of the National Accountability Bureau (NAB) Karachi, Shakeel Ahmed Durrani, said that NAB has recovered government land worth Rs1.5 trillion at the provincial level. He added that NAB and the Sindh Government are going to establish a special task force to resolve land-related issues. In line with the demand of the Association of Builders and Developers (ABAD), he stated that land should be sold through public auction. He expressed these views while addressing a ceremony held at ABAD House.
On the occasion, DG NAB Rawalpindi Waqar Ahmed Chauhan, Chairman ABAD Muhammad Hassan Bakhshi, Senior Vice Chairman Syed Afzal Hameed, Vice Chairman Tariq Aziz, Chairman Southern Region Ahmed Owais Thanvi, former Chairman ABAD Mohsin Sheikhani, Junaid Ashraf Talo, and a large number of builders and developers were present.
DG NAB Karachi Shakeel Ahmed Durrani further said that NAB and the Sindh Government are establishing a special task force to resolve land issues, which will soon become operational at the provincial level. He emphasized that both NAB and the Chief Minister of Sindh are on board regarding land-related matters. NAB has already recovered land worth Rs1.5 trillion at the provincial level, and a new plan has been initiated to recover government land worth Rs10 trillion.
He noted that discretionary powers related to land often become a source of corruption. A proposal is under consideration to develop public parks on the recovered lands in consultation with the Sindh Government.
Speaking on the occasion, Chairman ABAD Muhammad Hassan Bakhshi said that if Pakistan’s economy is to grow, Karachi must be embraced and supported. He stated that over the past two years, NAB has transformed into a different and more effective institution that has provided relief and business opportunities to the business community. He added that the relationship between NAB and ABAD has strengthened over the past 14 years and has now grown into a strong and flourishing bond.
Hassan Bakhshi said that five plots of land, including park lands, have been recovered. The Chairman NAB invited ABAD to work jointly on these lands and assured that NAB would be informed to resolve title-related issues. Once clearance is granted by NAB, the title issues will be resolved, and thereafter no NAB cases will be filed against builders, which would help restore investor confidence in Karachi.
The ABAD Chairman also announced the formation of a committee between the business community and NAB so that matters can be resolved out of court and long-pending cases can move toward resolution.
On the occasion, DG NAB Rawalpindi Waqar Ahmed Chauhan said that NAB closely reviews ABAD’s reports to stay informed. For the first time in the country’s history, NAB has developed an online property system. Layout plans of 1,026 housing societies across the country have been incorporated into the system. The online property system will soon be introduced for the public, and approved layout plans of societies will continue to be added to the system.
Former ABAD Chairman Mohsin Sheikhani said that government institutions associated with land matters are not working on a digitalization formula. Even after official approval stamps from government institutions, the value and legal standing of land are not secure, and people still have to make repeated court appearances. He emphasized that once digitalization is implemented in government institutions, 80 percent of land-related issues would be resolved.

کراچی14 فروری 2026

ڈائریکٹرجنرل نیب کراچی شکیل احمد درانی نے کہا کہ نیب نے صوبائی سطح پر 1500 ارب روپے کی سرکاری اراضی واگزار کرچکا ہے،زمینوں کے مسائل کے حل کے لیے نیب اور سندھ حکومت ٹاسک فورس قائم کرنے جارہی ہے، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد)کے مطالبے کے مطابق زمینوں کی فروخت نیلامی کے ذریعے کرنی چاہیے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ؔڈی جی نیب راولپنڈی وقار احمد چوہان،چیئرمین آباد محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی،سابق چیئرمین اباد محسن شیخانی،جنید اشرف تالو اور بلڈرز اور ڈیولپرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی نے مزید کہاکہ نیب اور سندھ گورنمنٹ خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے جارہی ہے، زمینوں کے مسائل حل کرنے کیلیے صوبائی ٹاسک فورس جلد متحرک ہوگی ۔انھوں نے کہا کہ نیب اورسندھ گورنمنٹ کی خصوصی ٹاسک فورس کو جلد فعال کردیا جائے گا۔نیب اور وزیر اعلیٰ سندھ زمینوں کے مسائل پر آن بورڈ ہیں۔صوبائی سطح پر نیب نے 1.5 ٹریلین مالیت کی زمینوں کو واگزار کرایا ہے ۔سرکار کی 10 کھرب روپے مالیت کی زمینوں کو واگزار کرانے کا منصوبہ شروع ہوگیا۔ زمینوں سے متعلق صوابددیدی اختیارات کرپشن کا سبب بنتے ہیں سندھ گورنمنٹ سے واگزار زمینوں پرپبلک پارکس بنانے پر پلان زیر غور ہے۔ اس موقع پرچیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو ترقی دینی ہے تو کراچی شہر کو اپنانا ہوگا اور اس شہر کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔انھوں نے بتایاکہ گزشتہ دو سال میں نیب ایک مختلف اور مؤثر ادارہ بن گیاہے، جس نے بزنس کمیونٹی کو ریلیف اور کاروباری مواقع دیے ہیں،نیب اور آباد کے درمیان تعلق گزشتہ 14 سالوں میں مضبوط ہوا ہے اور یہ رشتہ اب تناور درخت کی طرح ہے۔حسن بخشی نے کہا کہ پانچ زمینیں واگزار کرائی گئی ہیں، جن میں پارک کی زمینیں بھی شامل ہیں۔ چئیرمن نیب نے آباد کو ان زمینوں پر مل کر کام کرنے کی دعوت دی، اور زمینوں کے ٹائٹل کے مسائل حل کرنے کے لیے نیب کوآگاہ کرے گا۔ نیب کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد ٹائٹل کا مسئلہ حل ہوجائے گااور اس اقدام کے بعد بلڈرز پر نیب کے کیسز نہیں بنیں گے، جس سے کراچی میں سرمایہ کار مطمئن ہوں چیئرمین آباد نے بزنس کمیونٹی اور نیب کے درمیان کمیٹی بنانے کا اعلان کیا، تاکہ معاملات کورٹ سے باہر حل ہو سکیں اور سالوں سے التوا کا شکار کیسز حل کی طرف بڑھیں۔اس موقع پر ڈی جی نیب راولپنڈی وقار احمد چوہان نے کہا کہ نیب باخبر رہنے کیلیے آباد کی رپورٹس کاگہرائی سے مشاہدہ کرتا ہے۔ملکی تاریخ میں پہلی بار نیب نے آن لائن پراپرٹی سسٹم تیار کرلیا ہے،ملک بھر کی 1 ہزار26 سوسائٹیوں کے لے آؤٹ پلان آن لائن پراپرٹی سسٹم میں شامل ہیں۔ نیب کا آن لائن پراپرٹی سسٹم عوام کے لیے متعارف کرایا جائے گا جس سے آن لائن سسٹم میں سوسائٹیوں کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں اضافہ ہوتا رہے گا۔اس موقع پر آباد کے سابق چیئرمین محسن شیخانی نے کہا کہ زمینوں سے منسلک سرکاری اداروں میں ڈیجیٹلائزیشن فارمولے پر کام نہیں ہورہا ہے۔ سرکاری اداروں کی مہر لگنے کے بعد بھی زمینوں کی وقعت محفوظ نہیں، عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔سرکاری اداروں میں ڈیجیٹلائزیشن ہونے کے بعد زمینوں کے 80 فیصد مسائل حل ہوجائیں گے

January 2026

Karachi, January 26, 2026:

Chairman of the Association of Builders and Developers (ABAD), Muhammad Hasan Bakhshi, has stressed the need for collective action to ensure the rehabilitation of the victims of the Gul Plaza tragedy and the effective enforcement of fire safety measures in commercial buildings. He said that this tragic incident must serve as a lesson for all, and such negligence must be prevented at all costs in the future.

He expressed these views while talking to a delegation of Tanzeem-e- Tajraan Pakistan that visited ABAD House. The delegation included President Muhammad Kashif Chaudhry, Senior Vice President Sheikh Habib, along with other office-bearers.

During the meeting, a detailed discussion was held on the rehabilitation of Gul Plaza victims, ongoing relief efforts, and measures to improve fire safety systems. On the occasion, Chairman ABAD Muhammad Hasan Bakhshi assured full cooperation for the rehabilitation of the affected families, stating that ABAD will continue to play its role in assisting and restoring the victims.

He appealed to the Sindh government to ensure the early restoration of Gul Plaza and provide relief to the affected people by bringing all relevant institutions and stakeholders together.

Muhammad Hasan Bakhshi emphasized that laws alone are not sufficient for effective fire safety; rather, strict implementation is essential. For this purpose, he said, government departments, builders, traders, and market associations must demonstrate collective responsibility.

He further stated that during surveys of markets and commercial centers, the presence of representatives of relevant associations should be ensured so that ground realities can be highlighted and transparency maintained. He noted that providing fire safety facilities in old buildings is a major challenge; however, adopting a phased and well-planned strategy is inevitable to address this issue.

The ABAD chairman said that all associations must recognize their responsibilities and give priority to safety measures, as the protection of human lives is of utmost importance.

Members of the delegation also assured full cooperation with ABAD in the rehabilitation of Gul Plaza victims, improvement of the fire safety system, and the prevention of such incidents in the future.

کراچی 27 جنوری2026

تنظیم تاجران پاکستان کے وفد میں آباد ہاؤس کا دورہ کیا۔ اس موقع پر گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی اور فائر سیفٹی کے حوالے سے اجلاس منعقد کیا گیا جس میں آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی، وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی،سابق چیئرمینز آباد انور گاگئی،حنیف میمن، تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری اور سینئر نائب صدر شیخ حبیب اور دیگر شریک ہیں۔
کراچی 26 جنوری 2026:ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے گل پلازہ سانحے کے بعد متاثرین کی بحالی اور تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے مؤثر نفاذ کے لیے مشترکہ اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس افسوسناک واقعے سے ہم سب کو سبق لینا ہوگا اور مستقبل میں ایسی غفلت کو ہر صورت روکنا ہوگا۔یہ بات انھوں نے آباد ہاؤس کا دورہ کرنے والی تن ظیم تاجران پاکستان کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئی کہی۔وفد میں تنظیم تاجران کے صدر محمد کاشف چوہدری،سینئر نائب صدر شیخ حبیب اور دیگر عہدیدار شامل تھے۔ ملاقات میں گل پلازہ سانحے کے متاثرین کی بحالی، امدادی اقدام اور فائر سیفٹی کے نظام کو بہتر بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے گل پلازہ متاثرین کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آباد متاثرہ خاندانوں کی مدد اور بحالی کے عمل میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ اننھوں نے سندھ حکومت سے اپیل کی کہ گل پلازہ کی جلد بحالی اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اور اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں۔محمد حسن بخشی نے کہا کہ فائر سیفٹی کے مؤثر نفاذ کے لیے صرف قوانین کافی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا، جس کے لیے سرکاری اداروں، بلڈرز، تاجروں اور مارکیٹ ایسوسی ایشنز کو مشترکہ ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انھوں نے کہاکہ مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے سروے کے دوران متعلقہ ایسوسی ایشنز کے نمائنوں کی موجودگی کویقینی بنایاجائے تاکہ زمینی حقائق سامنے آسکیں اور شفافیت برقرار رہے۔ان کا کہنا تھا کہ پرانی عمارتوں میں فائر سیفٹی سہولتوں کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مرحلہ وار اور عملی حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ چیئرمین آباد کا کہنا تھا کہ تمام ایسوسی ایشنز کو اپنی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے حفاظتی اقدام کو ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ انسانی جانوں کا تحفظ سب سے اہم ہے۔وفد کے اراکین نے بھی گل پلازہ متاثرین کی بحالی، فائر سیفٹی کے نظام کی بہتری اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے آباد کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

کراچی 23 جنوری2026

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی نے کہاکہ رئیل سیکٹر اور تعمیراتی شعبہ کسی بھی ملک کا معاشی انجن سمجھا جاتا ہے، پاکستان کی معیشت کو فروغ دینا ہے ہے توتعمیراتی شعبے سے منسلک سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے پراپٹیک کے زیر اہتمام ایکسپو سینٹر کراچی میں بلڈ ایشیا رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات سے منسلک شعبوں کے حوالے سے انٹر نیشل ایگزیبیشن اینڈ کانفرنسز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احمداویس تھانوی نے پراپٹیک کی جانب سے کامیاب اور بروقت پراگرام کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی صنعت ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اس شعبے سے درجنوں صنعتیں وابستہ ہیں اور لاکھوں افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے۔انھوں نے بتایا کہ آباد سندھ میں زمینوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جا سکے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو۔ اس حوالے سے آباد،بورڈ آف ریونیو سمیت حکومت سندھ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے اور عملی اقدام کے لیے تجاویز بھی پیش کی جا رہی ہیں۔انھوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس وقت بلڈرز اور ڈویلپرز سرمایہ کاری اور تعمیرات کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مہنگائی، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور بزنس کے لیے غیر موافق ماحول نے تعمیراتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بزنس فرینڈلی ماحول یقینی بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو اعتماد حاصل ہو اور تعمیراتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر واقعی معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع بڑھانا چاہتی ہے تو تعمیراتی شعبے کو سہولتیں اور مراعات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

کراچی21 جنوری2026

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین سدرن ریجن احمداویس تھانوی نے گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور اربوں روپے کے مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ آتشزدگی سے صرف 1200 دکانیں نہیں جلیں بلکہ 12 ہزار افراد کاروزگار بھی سانحے کے نذر ہوا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز آباد کے اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔ احمد اویس تھانوی نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جانی ومالی نقصان کو کراچی شہر کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے متاثرہ تاجروں اور خاندانوں سے دلی ہمدردی کااظہارکرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آباد اس مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔چیئرمین سدرن ریجن نے امدادی کارروائیوں میں تاخیر اور آلات کی کمی پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ ٹھنڈی کر دی تھی، لیکن اس میٹرو پولیٹن شہر میں اگر انتظامیہ بروقت وسائل فراہم کر دیتی تو حالات مختلف ہوتے۔انھوں نے امدادی کارروائیوں میں تاخیر اور آلات کی کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین اسی ملک کے شہری اور محب وطن پاکستانی ہیں، کوئی غیر نہیں، جنھوں نے ہمیشہ ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ فائر فائٹرز نے اپنی کوششیں کیں لیکن فائر بریگیڈ کے پاس پانی کی کمی اور جدید آلات کا نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جو شہر پورے ملک کو ریونیو دیتا ہے، اسے اس قدر بے یار و مددگار چھوڑنا انتہائی افسوسناک ہے۔احمداویس تھانوی نے اعلان کیا کہ آباد متاثرہ عمارت کی ری ہیبلیٹیشن (بحالی) کے لیے تکنیکی اور اخلاقی طور پر مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ دوسروں کو دینے والے ہاتھ تھے، لیکن آج حالات کی وجہ سے پریشان ہیں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ ٹیکس پیئرز کی فوری مالی مدد کی جائے اور عمارت کی بحالی کے کام کو ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔

کراچی (17 جنوری 2026)

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سابق چیئرمین، معروف بلڈر و ڈیولپر محمد حنیف میمن کے چھوٹے بھائی محمد ریاض میمن انتقال کر گئے۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ غفوریہ مسجد، گارڈن ایسٹ، کراچی میں ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔نمازِ جنازہ اور تدفین میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے عہدیداران اور ممبران، تعمیراتی و ترقیاتی شعبے سے وابستہ معروف شخصیات، تاجر و صنعتکار، سرکاری افسران کے علاوہ مرحوم کے عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مرحوم محمد ریاض میمن ایک شریف النفس، ملنسار اور خوش اخلاق شخصیت کے مالک تھے۔ سماجی اور کاروباری حلقوں میں ان کی نیک نامی اور خوش اخلاقی کی وجہ سے انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے انتقال پر مختلف حلقوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی سمیت دیگر آباد عہدیداران، کاروباری و سرکاری شخصیات نے محمد حنیف میمن سے ان کے بھائی کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انھوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

 

December 2025

کراچی،29 دسمبر2025

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی،سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی، نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سابق چیئرمین عارف یوسف جیوا کے انتقال پر چیئرمین آباد محمد حسن بخشی کا گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہارکیا۔ اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میں آباد کے عہدیداران نے کہا کہ عارف یوسف جیوا ایک بلند پایہ شخصیت، مخلص دوست اور تعمیراتی صنعت کا عظیم اثاثہ تھے۔ انھوں نے اپنی چیئرمین شپ کے دوران تعمیراتی صنعت کے مسائل کے حل اور بلڈرز و ڈیولپرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔آباد کے عہدیداران نے کہا کہ ‘عارف یوسف جیوا کی وفات نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری تعمیراتی صنعت اور آباد کے لیے ایک بڑا خلا ہے جسے پُر کرنا مشکل ہوگا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔آباد کے تمام ممبران نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ صبر و ہمت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین

کراچی 24 دسمبر2025

مہتمم جامعۃ الرشید اور چانسلر الغزالی یونیورسٹی مفتی عبدالرحیم نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کو بیرونی دشمنوں اور اندرونی خطرات کا سامنا ہے،کراچی میں بھتہ خوری اور زمیننوں پر قبضوں کے پیچھے پاکستان کے دشمن ممالک ہیں، جامعۃ الرشید کو کراچی کے حالات پر تشویش ہے،آباد کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کا روزگار اور سیکڑوں ذیلی صنعتوں کا پہیہ چلتا ہے،آباد جیسے ادارے کو نقصان پہنچانا پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے،چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ بھتہ خوروں اور قبضہ مافیا نے پاکستان کے معاشی حب کراچی شہر کو مفلوج کردیا ہے،مفتی عبدالرحیم اور دین سے محبت نے والوں سے درخواست ہے کہ وہ آباد کی آواز بنیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں الغزالی یونیورسٹی کے پرو چانسلر ڈاکٹر ذیشان، آباد کے سابق چیئرمین محسن شیخانی،آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی، آباد کے سابق چیئرمین آصف سم سم، سینئر ممبر محمود تبہ اور بلڈرز اور ڈیولپرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مفتی عبدالرحیم نے مزید کہا کہ کراچی سے حاصل ہونے والا تقریباً 65 فیصد ریونیو پورے ملک میں جاتا ہے، جامعۃ الرشیدکا تعلق کراچی سے ہے اور کراچی کے حالت پر ہمیں تشویش ہے۔ ا ن کہا کہنتا تھاکہ آباد ایک بہت بڑا ادارہ ہے جس کے ہزاروں ممبران پورے ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں،آباد پاکستان کا ایک بہت اہم ادارہ ہے اسے کسی بھتہ خور سے بلیک میل ہوکر مایوس نہیں ہونا چاہیے۔بلڈرز اور تاجر اپنی سیکیورٹی بڑھائیں،بھتہ خوروں سے ہرگز خوفزدہ نہ ہوں۔ملک چھور کر جانا مسائل کاحل نہیں۔انھوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اپنی عوامی ساکھ اور تعلقات کر ذاتی مفاد کے بجائے کراچی کے مسائل کے حل کے لیے استعمال کروں۔انھوں نے بتایا کہ جامعۃ الرشید کاایک پارک ہم نے خواتین اور فیملی کے لیے مختص کردیاہے۔بلڈرز بھی ہمت کریں کوئی کام بھی مشکل نہیں ہوتا۔ اس موقع پر ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا کہشہر میں قبضوں کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے اور قبضہ گروپوں سے زمینوں کو بچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔انھوں نے بتایا کہ شہر میں قبضوں کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے اور قبضہ گروپوں سے زمینوں کو بچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بھتہ خوری کے فون نائجیریا،ایران اور دبئی کے نمبروں سے موصول ہورہے ہیں جبکہ 2 افراد کے ریڈ وارنٹ جاری کردیے گئے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ باقی ملزمان کے بھی رواں سال ریڈ وارنٹ جاری ہوں گے۔چیئرمین آباد نے کہا کہ زمینوں پر قبضے متعلقہ سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے ہورہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ فرد واحد سے لڑنا آسان جبکہ اداروں سے مقابلہ مشکل ہوتا ہے۔ انھوں نے کراچی کو ملکی معیشت کی گاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس کا انجن بند ہو جائے تو پورا نظام رک جاتا ہے۔محمد حسن بخشی نے بتایا کہ بھتہ خوری کے فون نائجیریا، ایران اور دبئی کے نمبروں سے موصول ہو رہے ہیں، جبکہ دو افراد کے ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں۔ اس موقع پر آباد کے سابق چیئرمین محسن شیخانی نے تقریب سے ویڈیو لنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مفتی عبدالرحیم نے جو تعلیم کا جو بیڑا اٹھایا ہے وہ لائق تحسین ہے ،ہم سب کو دین کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے ذمے داری لینا چاہیے۔ مفتی عبدالرحیم سے کراچی کے حالات پر آواز اٹھانے کی درخواست کرتا ہوں۔کراچی شہر سب سے زیادہ ٹیکس دیتا تھا حالات کی وجہ سے گھٹ رہا ہے۔ سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھتہ خوروں اور قبضہ مافیا سے بلیک میل نہیں ہوں گے اور نہ ہی کراچی شہر سے اپنی سرمایہ کاری بیرون ممالک منتقل کریں گے۔ تمام قوانین کا استعمال کرتے ہوئے بھتہ خوری کے ناسور سے نمٹیں گے۔

کراچی17 دسمبر2025

کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور بلڈرز، ڈیولپرز سمیت بزنس کمیونٹی کو منظم طریقے سے ہراساں کیا جا رہا ہے، بھتہ خوروں اور قبضہ مافیا نے پاکستان کے معاشی انجن کراچی شہر کو یرغمال بنارکھا ہے، ان عناصر کو فتنہ الخوارج کی سرپرستی حاصل ہے،بلڈرز اور کاروباری لوگوں کی مال وجان کو شدید خطرات لاحق ہیں، بھتہ خور ایران کے نمبروں سے کالیں کرکے بھتہ مانگتے ہیں،بھتہ خوروں کے خلاف ریڈ ورانٹ جاری نہ کیے گئے اور ان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو کراچی میں کاروبار بند کرنے اور دھرنا دینے سیمت دیگر آپشن پر غور کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن آف بلڈرز کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے سابق چیئرمین محسن شیخانی،سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز اور چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی کے ہمراہ آباد ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔چیئرمین آباد نے بتایاکہ بھتہ مانگنے والوں میں احمد علی مغزی، جمیل چھانگا سمیت دیگر عناصر ملوث ہیں۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ6 ماہ میں دوران آباد کے کم از کم 10 ممبران کو بھتے کے لیے کالز موصول ہوئیں، جن میں دبئی اور ایران کے نمبروں سے مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ افراد بھتے کی پرچیاں دیتے ہیں، پرچی لینے سے انکار پر فائرنگ شروع کر دی جاتی ہے۔ آباد کے 10 ممبران نے اس حوالے سے باقاعدہ طور پر آباد میں شکاات درج کروائی ہیں، جبکہ بھتہ خور اپنی پرچیوں پر اپنے نام، فون نمبرز اور اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی درج کر کے دیتے ہیں، اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔محمد حسن بخشی نے کہا کہ پورے شہر میں سیف سٹی منصوبے کے تحت کیمرے نصب کیے گئے ہیں، مگر یہ بتایا جائے کہ ان کیمروں کی مدد سے اب تک کتنے بھتہ خور پکڑے گئے؟۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ وصی اللہ لاکھو کے خلاف 60 مقدمات درج ہیں، پھر بھی شہر میں جرائم کا بازار گرم ہے۔ ظلم کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے، مگر کراچی میں حالات اس انتہا سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ صبح 6 بجے شہر میں ایک وکیل کا اغوا ہونا لمحہ فکریہ ہے، جبکہ لوگ اپنے کاروبار غیر ممالک منتقل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ چیئرمین آباد کا کہنا تھا کہ زمینوں پر قبضوں میں اب سرکاری افسران بھی ملوث ہیں، نیو کراچی سیکٹر14 میں آباد کے ایک ممبر کی زمین پر قبضہ کیا گیا، حتیٰ کہ عدالتوں کے فیصلوں پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا اور 40 فٹ چوڑی سڑکوں پر بھی قبضے کیے جا رہے ہیں۔ ایسا کوئی ادارہ نہیں جہاں آباد نے شکایت درج نہ کروائی ہو، مگر اگر ان شکایات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو بہت دیر ہو جائے گی۔ بھتہ خوری اور قبضوں کے علاوہ ایف بی آر کے چھاپوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایف بی آر میں بیٹھے لوگ بلڈرز کے دفاتر پر چھاپے مارکر تمام فائلیں لے جاتے ہیں اور مہینوں اپنے قبضے میں رکھتے ہیں اور ان کے بدلے کروڑوں روپے رشوت مانگتے ہیں۔ محمد حسن بخشی نے بتایا کہ سونک بلڈر، جیلانی پراپرٹی، سلیم گوڈیل، مصطفیٰ ویز سمیت دیگر بلڈرز کو بھی بھتے کی کالز موصول ہوئیں، جبکہ دانش علیم کو بھتے کی کالز آنے کے بعد گزشتہ روز ان کے ملازم کو شہید کیاگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ان کے پیچھے بیٹھے لوگ خوفزدہ ہیں اور اپنی باری کے انتظار میں ہیں، ہماری املاک داؤ پر لگی ہوئی ہیں اور پوچھنے والا کوئی نہیں۔اس موقع پرالائیڈ پینل کے پیٹرن انچیف محسن شیخانی نے کہا کہ ہمیں پکٹس فراہم کی جائیں اور رینجرز کو ہمارے ساتھ تعینات کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ آباد ملک کی 72 صنعتوں کو چلا رہی ہے اور بلڈرز کی املاک سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ایران سے فون آتے ہیں، دھمکیاں دی جاتی ہیں، معلومات حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے اور جواب نہ ملنے پر فائرنگ کر دی جاتی ہے۔محسن شیخانی نے کہا کہ صبح 8 بجے بھتہ خور آتے ہیں اور فائرنگ کر کے خوف پھیلاتے ہیں۔ انھوں نے آرمی چیف سے اپیل کی کہ وہ اس شہر کے حالات پر توجہ دیں، کیونکہ ہم ملک کی معیشت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، مگر اگر کاروبار بند ہوا تو ٹیکس کلیکشن کم ہو جائے گی اور معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ بھتہ خوری میں ملوث افراد کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں اور کراچی کو بچانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔آباد کے سینئر وائس چہیرمین سید افضل حمید نے کہا کہ کر بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضوں تعمیراتی صنعت کو یرغمال بنا دیا ہے،کراچی میں امن نہیں ہوگا تو معیشت کو نقصان ہوگا کیوں کہ 50 فیصد ترسیلات زر تعمیراتی شعبے کے ذریعے آتی ہیں۔ اس موقع پر تاجررہنما حفیظ عزیز نے کہا ہے کہ بدنام زمانہ وصی اللہ لاکھو کے خلاف پولیس کی جانب سے ریڈ وارنٹ کا کیس تو بھیجا گیا تھا، مگر تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ انھوں نے کہا کہ شہر میں امن قائم کرنا اور بھتہ خوری کا خاتمہ ہمارا بنیادی حق ہے، اور ریاست کو یہ حق دینا ہوگا۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ احمد مگسی اور وصی اللہ لاکھو کھلے عام کہتے ہیں کہ وہ ایس ایس پی کی بھی نہیں سنتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڑیا بازار میں تاجروں سے زبردستی رقم وصول کی جا رہی ہے، کہیں ایک لاکھ تو کہیں 50 ہزار روپے تک بھتہ لیا جا رہا ہے۔حفیظ عزیز نے مطالبہ کیا کہ بلڈرز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ایسا ماحول بنایا جائے جس میں وہ بلا خوف و خطر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔

کراچی 10 دسمبر 2025

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی گزشتہ 2 سال اور9ماہ کے دوران 11ہزار 400 روپے کی ریکوریز کو ملک میں شفاف احتساب کی مضبوط مثال قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیب کی مؤثر اور مسلسل کارروائیاں نہ صرف لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کا ذریعہ بنیں بلکہ سرمایہ کاروں اور عام شہریوں کے اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چیئرمین آباد نے کہا کہ ہاؤسنگ اسکیموں کے متاثرین کو 207 ارب روپے کی واپسی نیب کے شفاف اور غیرجانبدار احتساب کا عملی کا ثبوت ہے۔ان کا کہنا تھا گزشتہ کئی برسوں سے مختلف رہائشی منصوبوں میں عوام کی جمع پونجی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف رہائشی منصوبوں میں عوام کی جمع پونجی داؤ پر لگی ہوئی تھی، ایسے میں نیب کی بروقت کارروائیوں نے ہزاروں خاندانوں کو بڑا ریلیف فراہم کیا ہے۔محمد حسن بخشی نے کہا کہ قومی خزانے میں واپس آنے والی بھاری رقوم نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ میں اضافہ کریں گی بلکہ ملکی معیشت کے استحکام میں بھی ایم کردار ادا کریں گی۔ ملکی میں ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ایماندار سے کاروبار کرنے والوں کو سہولت اور لوٹ مار کرنے والوں کا سخت احتساب کا سامنا ہو۔شفاف احتسابی عمل ملکی معیشت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیسکتا ہے، حسن بخشی نے کہا کہ امید ہے کہ نیب کی جانب سے یہی رفتار اور غیرجانبداری مستقبل میں بھی برقرار رکھی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ جب ریاستی ادارے مضبوط ہوں اور احتساب کا عمل شفاف ہو توملک میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھتی ہے جو معیشت کی ترقی کیلیے ناگزیر ہے۔چیئرمین آباد نے امید ظاہر کی کہ نیب مستقبل میں بھی اسی رفتار، سنجیدگی اور غیرجانبداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتا رہے گا تاکہ ملک میں اعتماد، شفافیت اور ترقی کا سفر جاری رہ سکے۔

November 2025

کراچی15 نومبر2025

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اگر 27 ویں آئینی ترمیم پہلے آجاتی تو نسلہ ٹاور مسمار ہونے سے بچ جاتا، نئے صوبے بنانے کی باتیں ایک شوشا اور محض زہنی فتور ہے،بہت جلد کراچی کے انفرا اسٹرکچر بہت بہتر کیاجائے گا،پاکستان کی معیشت میں کراچی شہر کا 70 فیصد حصہ ہے لیکن وفاق کی جانب سے کراچی کو بی آرٹی کا منصوبہ دے کربہلایا گیا،سو ارب روپے کاوعدہ بھی وفا نہیں ہوا،آباد سستی رہائشی اسکیموں کا مسودہ دے سندھ حکومت مکمل تعاون کرے گی،چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ سعودی حکومت اور آباد میں ایم او یو پر دستخط ہوا ہے جس کے تحت کرااچی کے تعمیراتی شعبے میں سعودی عرب 50 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔لینڈ ریکارڈ اور پرجیکٹس کی اپروول ڈیجیٹائیز کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈی جی ایس بی سی اے مذمل ہالیپوٹو،آباد کے سابق چیئرمین اور الائیڈ پینل کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی،آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی، حیدرآباد ریجن کے وائس چیئرمین عبداللہ جان میمن اور آباد ممبران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ27 ویں آئینی ترمیم کراچی کے لوگوں کے فائدے کیلیے بنی ہے، نئے صوبے بنانا مشکل ہے۔سندھ میں موجود صوبائی مشینری کے اخراجات کی تکمیل نہیں ہو پارہی ایسے میں نئی اسمبلیاں،عدالتیں اور انفرا اسٹرکچر بنانا ممکن نہیں۔انھوں نے کہا کہ سندھ کا بلدیاتی نظام پاکستان کے تمام صوبوں کے بلدیاتی نظاموں سے بہتر ہے۔ حکومت تعمیراتی شعبے کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔“جو اپروول زیرِ التوا ہیں وہ فوری جاری کیے جائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو سستے رہائشی منصوبے بروقت فراہم ہوں۔انھوں نے اعتراف کیا کہ ایس بی سی اے سمیت کئی محکموں میں بہتری کی ضرورت ہے اور ناجائز طور پر بلڈرز کو تنگ کرنے والے افسران کو عہدوں سے ہٹایا بھی جا چکا ہے۔“غیر قانونی تعمیرات روکنا ضروری ہے مگر جائز کاموں میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کے ویژن کے مطابق سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،ہماری خواہش ہے کہ بلڈرز ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک نہ جائیں۔وزیرِ بلدیات نے یقین دلایا کہ حکومت بلڈرز اور ڈیولپرز کے ساتھ مل کر ایسے اقدام کرے گی جن سے روزگار، رہائش اور تعمیراتی معیشت میں حقیقی بہتری ممکن ہو سکے۔ اس موقع پر چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی میں ادارہ جاتی رکاوٹیں حد سے بڑھ چکی ہیں جس کے باعث تعمیراتی شعبہ بحران کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی کمرشل پلاٹس کی منتقلی سے لے کر مختلف قانونی معاملات تک تاخیر معمول بن چکا ہے۔بلدیاتی اداروں کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوتا، یوں صنعت نہیں چل پا رہی۔ آباد کے ممبران کراچی میں سرمایہ کاری کرنے سے گھبرا رہے ہیں، کئی دبئی اور لاہور منتقل ہو چکے ہیں۔حسن بخشی نے بتایا کہ سیمنٹ، اسٹیل اور ٹائلز کی صنعتیں محض 50 فیصد استعداد پر چل رہی ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ لاسکتے ہیں لیکن کراچی میں زمینوں کے حقوق کا مسئلہ اس حد تک سنگین ہے کہ کئی گھروں کو 40 سال سے ملکیت نہیں ملی انھوں نے کہا کہ لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 20 سال پہلے پلاٹس کی رقم وصول کی مگر آج تک قبضہ نہیں دیا۔ایس بی سی اے کا اسٹاف ڈی جی سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہے، تین مسلسل ڈائریکٹر جنرل مایوس کن کارکردگی دکھا چکے ہیں۔اس موقع پرپیٹرن اِن چیف آباد محسن شیخانی نے کہا کہ کراچی میں پٹواری سسٹم اور قبضہ مافیا کھلے عام سرگرم ہیں۔بلڈرز محفوظ سرمایہ کاری کے لیے دبئی جا رہے ہیں، یہاں زمینوں کی جانچ کرنے جائیں تو قبضہ گروہ فوراً حرکت میں آجاتا ہے۔ اسلام آباد میں رہائشی منصوبے کی منظوری ہمیں صرف دس دن میں مل گئی، مگر کراچی میں ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہاکہ انکی قیادت میں کراچی میں تعمیراتی شعبے کو فروغ ملے گا۔

October 2025

کراچی 21 اکتوبر2025

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آباد کے چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ کراچی شہر کی ترقی، توسیع اور منظم گروتھ کے لیے طویل المدتی ماسٹر پلا تیار کیا جائے جو یہ طے کرے کہ آئندہ 50 برسوں میں شہر کس سمت میں آگے بڑھے گا، تو یہ اقدام نہ صرف ترقی کی راہیں متعین کرے گا بلکہ موجودہ انتظامی، شہری اور ماحولیاتی مسائل کے حل میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے الاقوامی کنسلٹنسی فرم دارالحنداسہ کے وفد کی آباد ہاؤس دورے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفد کی قیادت پروجیکٹ مینیجر ڈیوڈ گنڈری کررہے تھے جبکہ ڈپٹی پروجیکٹ مینیجر سلیم عید اور جونیئر پلانر عدیبہ شامل تھے۔اس موقع پر آباد کے سینئروائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی بھی موجود تھے۔ چیئرمین آباد نے کہا کہ ماسٹر پلان کے ذریعے یہ واضح کیا جاسکتا ہے کہ صنعتی علاقے کہاں قائم کیے جائیں گے اور رہائشی علاقے کس سمت میں وسعت اختیار کریں گے۔ اس طرح کی پیشگی منصوبہ بندی سے شہر میں بے ہنگم تعمیرات، ٹریفک کے دباؤ، پانی و نکاسی کے مسائل، اور ماحولیاتی دباؤ جیسے چیلنجز پر قابو پایا جاسکتا ہے۔حسن بخشی کا کہنا تھا کہ کراچی شہر کی پائیدار ترقی کے لیے ایک متحد اتھارٹی ناگزیر ہے۔ انھوں نے تجویز دی کہ ماسٹر پلان کو سیاسی اثرات سے آزاد رکھا جائے اور ماحولیاتی تحفظ، خصوصاً مینگروز اور ساحلی پٹی کے تحفظ کو لازمی شامل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، اس لیے اگر اس شہر کے لیے صحیح سمت متعین کردی جائے تو یہ پورے ملک کی معاشی ترقی پر مثبت اثر ڈالے گا۔محمد حسن بخشی نے مزید کہا کہ ماسٹر پلان کے تحت نہ صرف زمین کے استعمال کا تعین ضروری ہے بلکہ اس میں انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، ماحولیات، رہائش، اور صنعتی ترقی کے پہلوؤں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ کراچی کو ایک جدید، منظم اور رہنے کے قابل شہر بنایا جاسکے۔حسن بخشی نے کہا کہ آباد حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا تاکہ کراچی کے لیے ایک قابلِ عمل، طویل المدتی اور حقیقت پسندانہ ماسٹر پلان تشکیل دیا۔ اس موقع پر دارالحنداسہ کے پروجیکٹ مینیجر ڈیوڈ گنڈری نے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047ء کی تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی جس میں انفراسٹرکچر، رہائش، ٹرانسپورٹ، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی شامل تھی۔ انھوں نے بتایا کہ دارالحنداسہ چھ دہائیوں پر محیط تجربہ رکھتا ہے اور دبئی، دوحہ، بیروت اور قاہرہ جیسے شہروں کے ماسٹر پلانز پر کامیابی سے کام کرچکا ہے۔

Karachi: 21 Oct 2025

Delegation of International Consultant – Dar Al-Handasah Visits ABAD House

A delegation from the international consultancy firm Dar Al-Handasah visited ABAD House on October 20, 2025, to discuss the Greater Karachi Master Plan 2047.

The ABAD delegation was led by Chairman Mr. Muhammad Hassan Bakshi, along with Senior Vice Chairman Mr. Afzal Hameed, Vice Chairman Mr. Tariq Aziz, Chairman (Southern Region) Mr. Owais Thanvi, and other senior members of the Association.

The visiting team from Dar Al-Handasah comprised Mr. David Gundry (Project Manager), Mr. Salim Eid (Deputy Project Manager), and Ms. Adeeba (Junior Planner). Representatives from the local consultancy firm Asian Consulting Engineers, Mr. Ahsan Iqbal (Senior Urban Planner) and Ms. Nayab Ayoob (Senior Planner), also accompanied the delegation. Additionally, the Karachi Development Authority (KDA) was represented by Mr. Muhammad Arshad Khan (Project Director, GKRP-2047) and Mr. Hammad Ansari (Assistant Engineer).

The meeting commenced with the recitation from the Holy Quran by Mr. Owais Thanvi.

Chairman Mr. Hassan Bakshi warmly welcomed the visiting delegation and extended appreciation for their visit to ABAD House. He provided a comprehensive briefing about ABAD’s structure, its subcommittees, and the facilitation services it offers to its members.

highlighted ABAD’s 50-year legacy as a leading representative body of Pakistan’s construction and housing industry, playing a vital role in promoting sustainable and planned urban development.

During the meeting, the Dar Al-Handasah delegation presented a detailed presentation on the Greater Karachi Regional Plan 2047, outlining the project’s objectives, methodology, and development framework.

The presentation included their approach to strategic planning, data integration, and long-term urban sustainability, focusing on infrastructure, housing, transport, environment, and resilience against climate change.

Mr. David Gundry, Project Manager from Dar Al-Handasah, shared a brief background of the firm, highlighting its six-decade history and presence across the Middle East, Africa, and Asia. He noted that Dar Al-Handasah has successfully delivered major master plans and infrastructure projects in cities like Dubai, Doha, Beirut, and Cairo, showcasing expertise in urban design, transportation systems, and environmental planning. He emphasized that the firm’s multidisciplinary team of engineers, urban planners, and environmental specialists will ensure a world-class, data-driven, and locally adaptable master plan for Karachi.

Mr. Gundry also explained that a comprehensive questionnaire would soon be circulated to ABAD members to gather valuable industry insights, which will play a key role in aligning the plan with the practical realities of the city’s housing and construction sectors.

In his address, Chairman Hassan Bakshi appreciated the firm’s professionalism and reiterated ABAD’s support for the initiative. He underscored that Karachi’s challenges — including inconsistent population data, fragmented governance, and infrastructure strain — require coordinated planning under a single regulatory authority. “Karachi is the economic lifeline of Pakistan,” he said, “but it faces mounting pressure on infrastructure, utilities, and housing. A comprehensive, unified approach is essential for sustainable progress.”

Representatives from KDA briefed the participants on the government’s vision for the Greater Karachi Regional Plan 2047, which aligns with Pakistan’s centenary year. They informed that, despite initial delays, the plan is expected to be completed by 2027 with the support of international and local consultants.

ABAD members actively participated in the discussion. Mr. Karim Adhia requested that ABAD be provided with a copy of the presentation for detailed study and recommended incorporating civil water treatment and decentralized water management within the climate resilience component of the plan — a suggestion positively received by the consultants.

Vice Chairman Mr. Tariq Aziz sought clarity on the scope of the master plan, to which KDA officials responded that it would encompass all seven districts of Karachi, six cantonments, and 25 KMC jurisdictions, making it a comprehensive framework for the entire metropolitan region.

Mr. Khursheed Alam – Convener MDA inquired about the data-sharing mechanism. The delegation replied that data from the LDA had been received, while the MDA data was still awaited. With the Chairman’s consent, ABAD assured its cooperation in providing relevant data to facilitate the planning process.

Members also proposed the creation of a Unified Development Authority to bring all planning bodies under one umbrella and promote vertical development, especially in slum areas. Chairman Bakshi endorsed the idea, emphasizing the need for sustainable urban renewal through vertical housing and efficient land use.

Senior Vice Chairman Mr. Afzal Hameed suggested relocating key facilities such as the Central Jail, stadium, and airport zone to peripheral areas to allow better land optimization in the city center.

Concluding the session, Chairman Bakshi emphasized that master plans should remain consistent over time and free from political interruptions. He urged the inclusion of environmental safeguards, particularly the preservation of mangroves and the coastal belt, within the planning framework.

The meeting concluded with mutual appreciation and a shared commitment to collaboration. ABAD reaffirmed its full support for the successful execution of the Greater Karachi Regional Plan 2047, aimed at transforming Karachi into a sustainable, resilient, and future-ready metropolis.

 


کراچی 20 اکتوبر2025

اظہار تعزیت
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان(آباد) کی جانب سے ہردلعزیز سیاسی رہنما سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج خان درانی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا جاتا ہے۔
مرحوم کی ملکی سیاست اور عوامی خدمت میں نمایاں کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ٓللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور پسماندگان کو یہ صدمہ حوصلے سے برداشت کرنے کی ہمت عطا کریں۔
آباد کے تمام عہدیداران اور ممبران مرحوم کے اہل خانہ، ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین اورپارٹی کارکنوں کی غم میں برابر کا شریک ہیں۔

چیئرمین آبا د محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز اور چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی


کراچی 17 اکتوبر2025

آئی جیل خانہ جات فدا حسین مستوئی نے کہا ہے کہ سندھ کی جیلوں میں 12 ہزار قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں 28 ہزار قیدی موجود ہیں،قیدیوں کی تربیت اور فلاح وبہبود کے لیے آباد کے اقدام قابل تحسین ہیں۔ ان خیالات کااظہار انھوں نے آباد کی جانب سے سینٹرل جیل کے قیدیوں کے لیے 100 کمپیوٹر عطیہ کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تفصیلات کے مطابق ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین حسن بخشی کی قیادت میں آباد کے وفد نے سینٹرل جیل کا دورہ کیا ،وفد میں وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی اور ناصر لاکھانی بھی شامل تھے۔ اس موقع پر آئی جی جیل خانہ جات سندھ فدا حسین مستوئی نے مزید کہا کہ جیل ریفارمز وقت کی اہم ضرورت ہیں،ملیر جیل کے ٹوٹنے کاواقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا،اسی وجہ سے جیلوں کے سیکیورٹی نظام کو ازسرِنو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جیل سیکیورٹی کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کیا گیا ہے، اب قیدیوں کی مانیٹرنگ سی سی ٹی وی اور فنگر پرنٹ سسٹم کے ذریعے کی جاتی ہے۔ فدا حسین مستوئی نے بتایا کہ جیلوں میں عملے کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے،28 ہزار قیدیوں کی نگرانی کے لیے صرف 4 ہزار پولیس اہلکار ہیں۔آئی جی جیل فدا حسین مستوئی نے کہا کہ قیدیوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے مختلف ہنرمندی کے کورسز شروع کیے گئے ہیں، جن میں زبان سیکھنے اور دیگر فنی تربیت شامل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ رہائی کے بعد یہ افراد معاشرے کے کارآمد شہری بنیں۔آئی جی جیل نے بتایا کہ آباد کی جانب سے 100 لیپ ٹاپس قیدیوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ آئی ٹی سے منسلک تربیت حاصل کرسکیں۔ آباد کا یہ قدم قابلِ تحسین ہے کیونکہ آئی ٹی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور یہ تربیت قیدیوں کے مستقبل کے لیے سودمند ہوگی۔فدا حسین مستوئی نے کہا کہ ایک سال کے اندر جیلوں کے نظام اور ماحول میں نمایاں بہتری لائی جائے گی۔ اس موقع پر چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ تعلیم و ہنر سے قیدی رہائی کے بعد معاشرے کا مفید اور باعزت حصہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ یہ بچے ملک کے لیے شاندار مثال بنیں، اور ان کے لیے روشن مستقبل کے دروازے کھلیں۔محمد حسن بخشی نے کہا کہ اگر جوڈیشل نظام بہتر ہو جائے تو 80 فیصد جرائم میں کمی ممکن ہے۔ انھوں نے بتایا کہ نیوٹیک کے اشتراک سے آباد 500 بچوں کو فنی تربیت دے کر روزگار فراہم کرے گا۔ چیئرمین آباد کا کہنا تھا کہ معاشرہ تب مضبوط ہوتا ہے جب ہم بھٹکے ہوئے لوگوں کو صحیح راستہ دکھائیں۔

کراچی: 10 اکتوبر 2025

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتتصادی تعاون بڑھانے کے لیے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) اور سعودی پاکستان بزنس کونسل (ایس پی بی سی) کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ایم او یو پر آباد کی جانب سے آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید اور سعودی پاکستان بزنس کونسل کے وائس چیئرمین محمدعبدلعزیز الجلان نے دستخط کیے۔معاہدے کے تحت آباد اور ایس پی بی سی نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے،سرمایہ کاری کے موقع بڑھانے اور تجارت وتعمیرات سے متعلق سرگرمیوں میں توسیع کے لیے ایک جامعہ فریم ورک تشکیل دیا ہے۔ معاہدے کے مطابق آباد اور ایس پی بی سی پاکستان کے تعمیراتی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سعودی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں گے اور تعمیراتی منصوبوں میں جوائنٹ وینچر کے امکانات تلاش کریں گے۔اس موقع پر سید افضل حمید نے کہا کہ سعودی پاکستان بزنس کونسل کے درمیاں شراکت دارہی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی انضمام کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔افضل حمید کا کہنا تھا کہ یہ ایم او یو پاکستان کے تعمیراتی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پاکستان کی تعمیراتی صنعت کو مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

English News paper
This MOU sets forth a framework for cooperation and collaboration between Association of Builders and Developers(ABAD) and Saudi-Pakistan business council(SPBC) with the objective of strengthening bilateral relations, promoting investment opportunities, and enhancing trade and construction-related activities between Pakistan and Saudi Arabia

کراچی،5 نومبر2025

ا ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے کہا ہے کہ تعمیراتی ترقی کے ساتھ ساتھ محفوظ تعمیرات اور فائر سیفٹی کے اصولوں پر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ بات انھوں نے نجی ہوٹل میں نیشنل فورم فار انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ (این ایف ای ایچ) کے زیرِ اہتمام15ویں سالانہ فائر سیفٹی اینڈ سیکیورٹی کنونشن 2025سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر فورم کے صدر نعیم قریشی،سول سوسائٹی کے نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی موجود تھے۔ سید افضل حمید نے کہا کہ فائر سیفٹی صرف تعمیراتی صنعت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ فائر سیفٹی اور سیکیورٹی جو صرف تعمیراتی صنعت ہی نہیں بلکہ ہر شہری کی زندگی، ہر ادارے، ہر عمارت، اور ہر شہر کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔پاکستان میں تعمیراتی صنعت تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔ نئے پروجیکٹس، ہاؤسنگ اسکیمز، کمرشل پلازے، اور بلند و بالا عمارات ہر شہر میں تعمیر ہو رہی ہیں مگر ترقی کے اس سفر میں محفوظ تعمیرات اور فائر سیفٹی کے اصولوں کو اختیار کرنا ہماری اجتماعی ذمے داری ہے۔۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ حادثات کے بعد نہیں بلکہ پہلے سے حفاظتی اقدام کیے جائیں۔ دنیا بھر میں فائر الارم، اسپرنکلر سسٹمز، ایمرجنسی ایگزٹ پلان اور سیفٹی ٹریننگ کو لازمی تقاضہ سمجھا جاتا ہے، لہٰذا پاکستان میں بھی ان اصولوں کو بلڈنگ کوڈز کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔سینئر وائس چیئرمین نے کہا کہ اگر حکومت نجی شعبہ اور تعمیراتی ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو ہم اپنے شہروں کو خوبصورت ہی نہیں بلکہ محفوظ بھی بنا سکتے ہیں۔آباد کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ فائر سیفٹی آڈٹس لازمی قرار دیا جائے اور سیفٹی انجینئرنگ کو تعلیمی نصاب اور تعمیراتی پالیسیوں کا حصہ بنایا جائے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی عمارتوں کو صرف مضبوط نہیں بلکہ محفوظ بھی بنانا ہے، کیونکہ محفوظ عمارت ہی پائیدار ترقی کی علامت ہے۔ سید افضل حمید نے زور دیا کہ فائر سیفٹی کا تعلق صرف تکنیکی پہلوؤں سے نہیں بلکہ عوامی آگاہی اور تربیت سے بھی ہے۔ اسکولوں، دفاتر اور تعمیراتی مقامات پر سیفٹی کلچر کو فروغ دے کر کئی حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔آخر میں انھوں نے این ایف ای ایچ کی گزشتہ 15 برسوں پر محیط کاوشوں کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ آباد محفوظ اور پائیدار تعمیرات کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔